<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-20079905</id><updated>2012-02-01T19:58:30.597+05:00</updated><title type='text'>Javed Page</title><subtitle type='html'>Quran Information</subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://al-kitab.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://al-kitab.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>Javed</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12054184344313796240</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>3</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-20079905.post-113538606231097005</id><published>2005-12-24T05:59:00.000+05:00</published><updated>2005-12-24T06:21:23.366+05:00</updated><title type='text'>احادیث کے لئے قرآن ہی معیار ہے</title><content type='html'>&lt;div align="left"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;&lt;span style="color:#000099;"&gt;ریحان عمر&lt;/span&gt; &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div align="right"&gt;&lt;span style="font-size:130%;"&gt;                       احادیث کے لئے قرآن ہی معیار ہے&lt;br /&gt;احادیث کے پرکھنے کے لئے سب سے پہلا اصول اور سب سے اہم معیار خود قرآن ہی ہے۔&lt;br /&gt;جو حدیث قرآن کے خلاف یا معارض ہوگی وہ رد کردی جائے گی۔جیسا کہ ضمناً ان عبارتوں سے جو پہلے گزریں ،سے ثابت ہوا کہ قرآن جو قطعی اور یقینی ہے ،اسکے خلاف یا معارض حدیث نہیں ہوسکتی ،جو کہ ظنّی ہے۔اب ہم احادیث اور اقوالِ علماءکو نقل کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ قرآن ہی اصلِ معیاراور پہلا اصول ہے احادیث کے قبول و رد کا ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(ا) امام علی بن محمدالبزدوی الحنفی متوفی٢٨٤ھ&lt;br /&gt;” فاذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی ،فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“&lt;br /&gt;( اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔“&lt;br /&gt;( فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ’اصولِ بزدوی‘،باب بیان قسم الانقطاع ص٥٧١،میرمحمد کتب خانہ کراچی۔)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٢) علامہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی متوفی ٨٤٧ھ&lt;br /&gt;٭” فقولہ علیہ السلام تکثر لکم احادیث من بعدی فاذاروی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافق کتاب اللہ تعالٰی فاقبلوہ وما خالفوہ فردوہ۔“&lt;br /&gt;( تو آپ علیہ السلام کا قول کہ میرے بعد تمہارے لئے احادیث کی کثرت ہوجائے گی تو جب اگر تم سے کوئی حدیث روایت کی جائے مجھ سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کروتواگر وہ کتاب اللہ کے موافق ہو تو اسے قبول کرلو اور جو مخالف ہو تو رد کردو۔“&lt;br /&gt;( التوضیح والتلویح،بحثِ سنت،ص٠٨٤)&lt;br /&gt;اس کتاب کے ماتِن صدرالشریعہ عبیداللہ بن مسعود المحبوبی الحنفی ہیں اور ان کا متن ’التوضیح‘ کہلاتا ہے۔اور اسکی تشریح دوسرے مشہور و معروف عالم و متکلم علامہ سعدالدین تفتازانی شافعی متوفی ٢٩٧ھ نے’ التلویح‘ کے نام سے لکھی اور یہ دونوں ’التوضیح والتلویح‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد صدرالشریعہ لکھتے ہیں کہ:&lt;br /&gt;٭” فدلّ ھذا الحدیث علی ان کل حدیث یخالف کتاب اللہ (تعالٰی) فانہ لیس بحدیث الرسول وانما ھو مفتری وکذلک کل حدیث یعارض دلیلاً اقوٰی منہ فانہ منقطع عنہ علیہ السلام لان الادلة الشریعة لا یناقض بعضھا بعضاً وانما التناقض من الجھل المحض۔“&lt;br /&gt;( تو یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کی مخالف ہو ہرگز رسول (اللہ ) کی حدیث نہیں ہے اور وہ افتراءہے اور اسی طرح ہر وہ حدیث جو کسی زیادہ قوی دلیل کے معارض و مخالف ہو وہ بھی آپ علیہ السلام سے منقطع ہے( یعنی صحیح نہیں ) کیونکہ شریعت کے دلائل آپس میں ایک دوسرے کے معارض و مخالف و مناقض نہیں ہوسکتے کیونکہ تناقض تو محض جہل ہے۔)( التوضیح والتلویح ص٠٨٤)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٣) علامہ حافظ جلال الدین سیُوطی متوفی ١١٩ھ&lt;br /&gt;” بما روی ان النبی قال: ما جاءکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ،فما وافقہ فاَنا قلتہ وما خالفہ فلم اقلہ۔“&lt;br /&gt;” روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو حدیث تمہارے پاس آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو،اگر اس ( قرآن) کے موافق ہو تو (سمجھوکہ) میں نے ہی کہی ہے اور اگر مخالف ہو تو (سمجھوکہ) میں نے نہیں کہی ۔“&lt;br /&gt;(مفتاح الجنة فی الاحتجاج بالسنة ص١٢)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٤) ملا علی قاری حنفی متوفی&lt;br /&gt;” (فصل) ومنھا مخالفة الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدارالدنیا وانھا سبعة اٰلاف سنة ونحن فی الالف السابعة وھذامن ابین الکذب۔“&lt;br /&gt;( اور اس(اصولِ حدیثِ موضوع) میں سے ہے کہ حدیث صریحاً قرآن ہی کے مخالف ہو(تووہ موضوع ہوگی) جیسے حدیث ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہم ساتویں ہزار سال میں ہیں ( اور ابھی تک دنیا بھی ہے لھذا یہ صریحاً غلط ثابت ہوگئی) اور یہ انتہائی کھلا ہوا جھوٹ ہے۔)(موضوعات الکبیر ص٢٦١)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٥) محمد نظام الدین الشاشی المعروف بہ ملا جیون متوفی&lt;br /&gt;” بقولہ اذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“&lt;br /&gt;( اور آپ کا قول کہ جب تم سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو تو جو اسکے موافق ہو قبول کر لو اور جو مخالف ہو اسے رد کردو۔)&lt;br /&gt;( فقہِ اصول حنفی کی مشہور کتاب جو مدارس میں بھی پڑھائی جاتی ہے ’ نورالانوار ص ٥١٢،اور اسکے مصنف ملا جیون مغل بادشاہ عالمگیر کے استادتھے! )&lt;br /&gt;٭ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:&lt;br /&gt;” اذا بلغکم منی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“&lt;br /&gt;( مفہوم وہی جو اوپر گزرا)( مقدمہ تفسیر احمدیہ ص٤، بحوالہ جاءالحق از مفتی احمد یار خان گجراتی ص٤٣)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;( ٦) حافظ ابن کثیر متوفی&lt;br /&gt;” وقال ابن جریر حدثنا محمد بن اسماعیل الَحمسی اَخبرنی جعفر بن عون عن عبدالرحمان بن المخارق عن ابیہ المخارق بن سلیم قال قال لنا عبداللہ ھوابن مسعود اذا حدثناکم بحدیث اتیناکم بتصدیق ذلک من الکتاب اللہ تعالٰی۔“&lt;br /&gt;(عبداللہ ابن مسعود نے کہا کہ جب ہم تم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی لا تے ہیں ۔)( تفسیر ابن کثیر ج٤ ص٩٤٥ ،سورہ فاطر)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٧) عنایت اللہ سبحانی&lt;br /&gt;٭” اور جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ کبھی بھی قرآن کی شرح نہیں بن سکتی ۔“(حقیقت رجم ص٦١)&lt;br /&gt;٭” حدیث قرآن کی تشریح ہے لیکن قرآن بھی حدیث کی صحت کےلئے بہترین کسوٹی ہے۔آپ کا ارشاد ہے کہ : تکثر لکم الاحادیث بعدی فاذا روی لکم عنی حدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ فما وافق فاقبلوہ وما خالف فردوہ ۔“(مفہوم وہی جو کئی بار گزرا)&lt;br /&gt;٭ اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :&lt;br /&gt;’ ما اتاکم عنی فاعرضوہ علی کتاب اللہ فان وافق کتاب اللہ اَنا اقلتہ وان خالف کتاب اللہ فلم اقلہ وکیف اخالف کتاب اللہ وبہ ھدانی اللہ؟۔“( یعنی تمہارے پاس جو کچھ بھی میرے پاس سے آئے تو اسے کتاب اللہ پر پیش کرو اگر کتاب اللہ کے موافق ہو تو ہو میں نے ہی کہا ہوگا اور اگر مخالف ہو کتاب اللہ کے تو اسے میں نے نہیں کہا ،اور میں کیسے کتاب اللہ کی مخالفت کرسکتاہوںجبکہ اللہ نے مجھے اسی کے ذریعے ہدایت دی ۔“( امام شاطبی ،الموافقات ج٤ص٣١)&lt;br /&gt;امام شاطبی اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ” اس حدیث کی سند صحیح ہو یا نہ ہو لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔“( ایضاً ص٠٥١)&lt;br /&gt;٭ حضرت عیسٰی بن ابان (م ٩٤٢ھ) جو ایک بلند پایہ محدث اور ایک بالغ نظر فقیہ تھے اور جو کئی سال تک بصرہ کے قاضی رہے ،انہوں نے بھی اس روایت کی توثیق کی ہے اور اسکی اساس پر انکا مسلک یہ تھا کہ ’ خبر واحد جس کے اندر صحتِ سند کی تمام سندیں اور شرطیں موجود ہوں اسے کتاب ( اللہ) کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہوگا اور اس کی صحت کا آخری فیصلہ اسی کی بنیاد پر ہوگا‘۔“ [المحصول فی علم اصول فقہ از امام رازی] ( بحوالہ حقیقت رجم ص٥١)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٨) مولانا عبدالماجد دریا آبادی&lt;br /&gt;” خود خبر واحد کے قبول کا معیار یہی ہے کہ وہ کسی نص قرآنی کے مخالف نہ ہو۔“&lt;br /&gt;(تفسیر ماجدی ص٤٢٣ ،سورہ اعراف حاشیہ ٣)&lt;br /&gt;امام ابوبکر جصاص اور امام قرطبی کا حوالہ بھی مولانا نے نقل کیا ہے جسے ہم بھی پہلے نقل کرچکے ہیں لھذا وہاں دیکھ لیا جائے ۔&lt;br /&gt;ّّ&lt;br /&gt;(٩) مولانامفتی محمدشفیع عثمانی دیوبندی&lt;br /&gt;” اور صحیح مسلم میں ایک حدیث ابو ھریرہ کی روایت سے آئی ہے جس میں تخلیق عالم کی ابتداءیوم سبت یعنی ہفتہ کے روز سے بتائی گئی ہے اس کے حساب سے آسمان و زمین کی تخلیق کا سات دن میں ہونا معلوم ہوتا ہے مگر عام نصوص قرآنی میں یہ تخلیق چھہ روز ہونا صراحةً مذکور ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تخلیق ارض و سماءکے واقعات اور دن اور ان میں ترتیب جن روایات حدیث میں آتی ہے ان میں کوئی روایت ایسی نہیں جس کو قرآن کی طرح قطعی ،یقینی کہا جاسکے بلکہ یہ احتمال غالب ہے کہ یہ اسرائیلی روایات ہوں ،مرفوع احادیث نہ ہوں جیسا کہ ابن کثیر نے مسلم اور نسائی کی حدیث کے متعلق اس کی صراحت فرمائی ہے۔اس لئے آیات قرآنی ہی کو اصل قرار دے کر مقصود متعین کرنا چاہیے۔“( معارف القرآن ،ج٧ص٦٣٦ سورہ حٰم)&lt;br /&gt;(یعنی اگر کوئی روایت قرآن کے خلاف ہو تو وہ رد کیے جانے کے قابل ہے چاہے صحیح مسلم کی ہی کیوں نہ ہو ۔)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٠١) مولانا عبدالسلام رستم مردانی&lt;br /&gt;” واعلم قبل جواب ھذا الحدیث ان مسلک ابی حنیفہ اسلم ،فانہ یقدم العمل بالآیة من العمل بالحدیث اذا لم یمکن التوفیق بینھما ویتاول فی الحدیث دون الآیة۔“&lt;br /&gt;( اور جان لے اس حدیث کے جواب سے قبل کہ ابو حنیفہ کا مسلک سلامتی والا ہے کیونکہ وہ آیت پر عمل کو مقدم رکھتے ہیں حدیث کے مقابلے پر جب ان دونوں(قرآن و حدیث)میں توفیق اور تطبیق ممکن نہ ہو، اور آپ حدیث میں تاویل کرتے ہیں بجائے آیت کے ۔)(التبیان فی تفسیر امّ قرآن ص٧٣١)&lt;br /&gt;٭” وایضاًکان ھذاالحدیث مخالفاًعن ظاھرالقرآن الدال علی فوقیتہ تعالٰی علی العرش فلذا اول فی الجامع الترمذی۔“( اور اسی طرح یہ حدیث ظاہرقرآن کے مخالف ہے لھذا جمع ترمذی میں ہی تاویل کی جائے۔)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(١١) امام نسفی متوفی ٠١٧ھ&lt;br /&gt;٭” بقولہ علیہ السلام اذا روی لکم عنی الحدیث فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی فما وافقہ فاقبلوہ والا فردوہ۔“( آپ کا قول کہ،جب تم سے کوئی حدیث بیان کرے میری طرف سے تو اسے کتاب اللہ تعالٰی پر پیش کرو ،اگر موافق ہے تو قبول کرلواوراگرنہیں تو رد کردو۔)( کشف الاسرار علی المنار،ج٢ص٥٨)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٢١)امام ابوبکر السرخسی&lt;br /&gt;٭” ان کل حدیث ھو مخالف الکتاب اللہ تعالٰی فھو مردود ۔“&lt;br /&gt;( ہر حدیث جو کتاب اللہ کے مخالف ہو مردود ہے)(اصول سرخسی ج١ص٥٦٣)&lt;br /&gt;٭” وما روی من قولہ علیہ السلام فاعرضوہ علی کتاب اللہ تعالٰی۔“&lt;br /&gt;( اورجوقول مروی ہے آپ کا کہ (حدیث کو ) کتاب اللہ پر پیش کرو)(ایضاًج٢ص٦٧)&lt;br /&gt;٭” وبہ نقول ان الخبر الواحد لا یثبت نسخ الکتاب ،لانہ لا یثبت کونہ مسموعاًمن رسول اللہ قطعاًوالھذالایثبت بہ العلم الیقین ،علی ان المرادبقولہ(وما خالفہ فردوہ)۔“&lt;br /&gt;(اور اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ خبر واحد سے کتاب اللہ منسوخ ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ یہ بات کہ وہ رسول سے ہی سے سنی گئی ہے ،قطعی نہیں ،لھذا اس سے علم یقین پیدا نہیں ہوتا، آپ کی قول مراد یہی ہےکہ جو مخالف قرآن ہو اسے رد کردو(ایضاً)&lt;br /&gt;٭” ولا یجوز ترک ما ھو ثابت فی کتاب اللہ نصاًعندالتعارض۔“&lt;br /&gt;(نص،کتاب اللہ میں جو ثابت ہے اس کو ترک کرنا جائز نہیں ( جب اس کا حدیث سے) تعارض ہو۔)( ایضاً)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٣١) مولانا حسن بن عمار بن علی حنفی&lt;br /&gt;” قالت (عائشة) کیف یقول رسول اللہ ذلک رد علی الراوی واللہ تعالٰی یقول وما انت بمسمع من فی القبور ،ای فلم یقلہ۔“( حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ’ رسول اللہ کیسے یہ بات کہہ سکتے ہیں‘( کہ مُردوں نے سنا)اور آپ نے یہ راوی پرپر رد کیا ،’ جبکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ آپ مُردوںکو نہیں سنا سکتے‘یعنی آپ نے یہ بات ہی نہیں کی ( کہ مخالفِ قرآن ہوتی)&lt;br /&gt;( مراقی الفلاح شرح النورالایضاح ص٧٠٣)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٤١)&lt;br /&gt;” کیونکہ فقہ حنفی کے اصول میں ہے کہ استخراج واستنباطِ مسائل کے سلسلے میں قرآن حدیث پر مقدم ہے ،حدیث کا نمبر قرآن کے بعد ہے نہ کہ قرآن سے پہلے ۔لیکن اگر اس کے متعلق کوئی آیت موجود نہیں تو ظاھر ہے کہ اب حدیثِ صحیح کو ہی مستدل بنایا جائے گا اور اگر کسی مسئلے میں احادیث متعارض ہوں تو دین کے ناقلینِ اول صحابہ کرام کے اقوال و افعال کسی ایک کے لئے وجہءترجیح بنیں گے۔“&lt;br /&gt;( رسول اکرم کا طریقہءنماز ص١١)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٥١)امام ابن ھمام متوفی ١٨٦ھ&lt;br /&gt;”قولہ علیہ السلام فی اھل القلیب ما انتم باسمع بما اقول منھم واجابوا تارة بانہ مردود من عائشة قالت کیف یقول ذلک واللہ یقول وما انت بمسمع من فی القبور ،انک لا تسمع الموتٰی ۔“&lt;br /&gt;( اور آپ کا قول قلیبِ بدر کے متعلق کہ’ تم ان(مُردوں) سے زیادہ نہیں سنتے ہو جو میں ان سے کہتا ہوں ‘اور انہوں نے ایک مرتبہ جواب بھی دیا ،تو یہ رد شدہ ہے حضرت عائشہ سے کیونکہ آپنے فرمایا کہ آپ کیسے یہ قول کہہ سکتے تھے جبکہ اللہ کہتا ہے کہ آپ ان کو(اپنی بات) نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں اور آپ مُردوں کو(اپنی بات) نہیںسنا سکتے۔ )( فتح القدیر ،ج٢ص٩٦)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٦١) مولانا قاسم نانوتوی بانیءدارالعلوم دیوبند&lt;br /&gt;” واقعی مخالف کلام نہ کہ محدث کا قول معتبر ہے اور نہ ہی کسی منکر کا بلکہ خود حدیث اگر مخالف کلام اللہ ہو تو موضوع سمھجی جائے گی ۔“( تصفیة العقائد ص ٠٢)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٧١)علامہ ابن قیّم جوزی&lt;br /&gt;” ومنھا مخالفة الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدارالدنیا وانھا سبعة اٰلاف سنة۔“&lt;br /&gt;( اور ( حدیث کے موضوع ہونے کی ایک دلیل)قرآن کی صراحت کے حدیث کا مخالف ہونا ہے جیسے مقدارِ دنیا والی حدیث کہ دنیا کی کل عمرسات ھزار سال ہے۔)( حالانکہ یہ حس و مشاھدہ کے بھی خلاف ہے چہ جائیکہ قرآن)۔( رسالہ المنار ص١٣، نیز موضوعات الکبیر ص٢٦١)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٨١)یعقوب بن اسحاق کُلینی رازی (اثنا عشری شیعہ)&lt;br /&gt;٭” عن ابوعبداللہ علیہ السلام قال:قال رسول اللہ ان علی کل حق حقیقة وعلی کل صواب نورا فماوافق کتاب اللہ فخذہ وما خالف کتاب اللہ فدعوہ ۔“&lt;br /&gt;(ابوعبداللہ علیہ السلام نے کہا کہ کہا رسول اللہ ہر ایک حق پر ایک حقیقت اور ہر ایک صحیح و صواب پر ایک نور ہوتا ہے تو جو کتاب اللہ سے موافق ہو تو اسے پکڑ لو اورجوکتاب اللہ کے مخالف ہواسے ردکردو۔“( اصولِ کافی،باب الاخذ بالسنةوھواھدالکتاب،ج١ص٨٨)&lt;br /&gt;٭” عن ایوب بن الحر قال: سمعت اباعبداللہ یقول کل شیءمردود الی الکتاب والسنةوکل حدیث لایوافق کتاب اللہ فھو زخرف۔“(اصولِ کافی،ج١ص٩٨)&lt;br /&gt;( ایوب بن حر نے کہا کہ میں نے ابوعبداللہ کوکہتے سنا کہ فرماتے ہں کہ ہرشیءکتاب اورسنت کی طرف پھیری جاےگی اور ہر وہ حدیث جو کتاب اللہ کے موافق نہیں وہ بیکار چیز ہے۔)&lt;br /&gt;٭” عن ابوعبداللہ قال:خطب النبی بمنٰی وقال:ایھاالناس ماجاءکم عنی یوافق کتاب اللہ فانہ قلتہ وماجاءکم یخالف کتاب اللہ فلم اقلہ۔“(ایضاً)&lt;br /&gt;( ابوعبداللہ نے کہا کہ نبی نے منٰی میں خطبہ دیا اورفرمایاکہ اے لوگوں!میری طرف سے تم تک جو بھی (حدیث) آئے جوکتاب اللہ کے موافق ہوتوسمجھوکہ میں نے ہی کہا ہوگااوراگرکوئی (حدیث)کتاب اللہ کے مخالف ائے تو سمجھنا کہ میں نے نہیں کہا ۔)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٩١)سیدظفرالحسن امروہوی(شیعہ)&lt;br /&gt;” حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ وہ اول تو قرآن کے خلاف نہ ہو۔“&lt;br /&gt;( فروعِ کافی کا دیباچہ ،ج١ص٤)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٠٢)امام دارمی محدث سمرقندی&lt;br /&gt;’باب تا&lt;br /&gt;¿ویل حدیث رسول اللہ‘۔عن ابی ہریرةفکان ابن عباس اذاحدث قال:اذاسمعتمونی احدث عن رسول اللہ فلم تجدوہ فی کتاب اللہ اوحسناعندالناس فاعلمواا&lt;br /&gt;¿نی قدکذبت علیہ۔“ (سنن دارمی ج١ص٤٥١،قدیمی کتب خانہ کراچی)&lt;br /&gt;(یعنی امام دارمی نے باب قائم کیا ہے’حدیث رسول اللہمیں تا&lt;br /&gt;¿ویل‘اس کے تحت لکھتے ہیں کہ ابوہریرہسے روایت ہے کہحضرت ابن عباسجب حدیث بیان کرتے توکہتے :جب تم مجھ سے کوئی حدیث سنواور تم اسے کتاب اللہ میں نہ پاو&lt;br /&gt;¿یا وہ لوگوں&lt;br /&gt;کے نزدیک وہ اچھی چیزنہ ہو(یعنی معروف نہ ہو)توسمجھوکہ میں نے آپپر جھوٹ باندھا۔)(یعنی میں نے غلط کہاکیونکہ اس کا امکان نہیںکہ آپ پر آپ جھوٹ باندھیں مگر اس پر تنبیہ کے لیے ایسا فرمایا)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(١٢)امام سخاوی&lt;br /&gt;ملاعلی قاری اپنی ’موضوعات الکبیر‘میں امام سخاوی کا قول بھی یہی قول کرتے ہیں کہ ’ہمارے شیخوں کے شیخ شمس الدین نے ’مقاصد الحسنة فی بیان الاحادیث المشتھرة علی الالسنة‘کے خاتمہ میں کہاکہ(موضوع حدیث ہونے کی علامت )میں سے یہ بھی ہے کہ حدیث صریح قرآن کے مخالف ہو ۔‘(موضوعات الکبیر،فصل ٣١ص٦٢٣۔قدیمی کتب خانہ کراچی)&lt;br /&gt;(ختم شد معیار حدیث، قرآن)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٢٢)نووی۔پٹنی۔شاہ عبدالعزیز۔سیوطی۔قرآن۔ا&lt;br /&gt;¿یامرکم ان تکفروا بعد ایمانکم۔۔۔؟ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;” آپ نے قرآن کے سوا کچھ نہیں چھوڑا “&lt;br /&gt;(١)خطبہءحجة الوداع:&lt;br /&gt;یہاں ہم وہ خطبہ حجةالوداع سے متعلق احادیث نقل کریں گے جن سے یہ ثابت ہوگا کہ آپنے امّت کو سوائے قرآن کے کچھ نہیں دیا،مطلب جن احادیث میں صرف قرآن ہی کا ذکر ہے اوراس کے ساتھ کسی دوسری چیزکاذکر نہیں۔&lt;br /&gt;جبکہ بعض احادیث میں ’اہل بیتی‘(میرے اہل بیت) اور بعض میں’عترتی‘(میری عترت)کو الفاظ بھی آئیں ہیں جو صاف اضافہ معلوم ہوتے ہیں نہ کہ رسول اللہکے الفاظ!بلکہ اثناعشری عالم علامہ نوری طبرسی نے اپنی کتاب’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘ میں تو یہ لکھ ماراہے کہ آپنے فرمایاکہ میں تم میں دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں،کتاب اللہ ،سنت رسول اللہ اور کعبہ“ص۔۔۔۔یعنی دوکا کہااورذکر کردیے تین !جس کی وجہ سے ہمیں شبہ ہے کہ آپ&lt;br /&gt;نے صرف قرآن کا ہی ذکرکیا تھا نہ کہ اس کے ساتھ کسی اور چیزکایہاں تک کہ سنت کا بھی ذکرنہیں کیابلکہ قرآن ہی کے ذکرکوکافی سمجھا گیا کہ اسی پر عقائدکی بنیادہے اور اسی سے سنت مستفادہے۔تو اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی حدیث کا مجموعہ بھی آپ چھوڑگئے تھے تو اسے ایک غلط فہمی اور دینی کوتاہ فہمی کے سواکچھ نام نہیں دیاجاسکتا۔&lt;br /&gt;صحیح مسلم وصحیح ابوداو&lt;br /&gt;¿د:&lt;br /&gt;٭” وانی قد ترکت فیکم مالن تضلوا بعدی ابداان اعتصمتم بہ کتاب اللہ۔“&lt;br /&gt;( اور میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑا تو تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے(یعنی) کتاب اللہ!)&lt;br /&gt;( صحیح مسلم،باب حجةالنبی ،ج١ص٣٩٧،سنن ابوداو&lt;br /&gt;¿د،باب صفة حجةالنبی،ج١ص٢٦٢)&lt;br /&gt;٭اور علامہ وحیدالزمان نے حدیث کے اس ٹکڑے کے بعد یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ:&lt;br /&gt;” وایاکم والغلوفی الدین فانما اھلک من قبلکم الغلوّ فی الدین۔“&lt;br /&gt;( اور دین میں غلو سے بچو کہ کیونکہ دین میں غلوہی نے پچھلی قوموں کوہلاک کیا۔)&lt;br /&gt;( تیسیرالباری ترجمہ و تشریح صحیح بخاری،خطبہ حجةالوداع(کتاب کے آخرمیں)ج٨ص٤)&lt;br /&gt;٭حضرت مالک بن عبادہ فرماتے ہیں:&lt;br /&gt;”ان النبیعھدالینافی حجة الوداع فقال علیکم القرآن“&lt;br /&gt;(نبینے ہم سے عہدلیا حجة الوداع کے موقع پر کہ تم اپنے اوپر قرآن کو لازم کرلو)&lt;br /&gt;(مشکل الآثارج١ص١٥١،از امام طحاوی،بحوالہ تدوین حدیث ص٨٥٣از مولانامناظراحسن گیلانی)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٢) علامہ شبلی نعمانی&lt;br /&gt;” اسلام سے پہلے بڑے بڑے مذاھب دنیا میں پیدا ہوئے لیکن انکی بنیاد خودصاحب شریعت کے تحریری اصول پر نہ تھی۔ان کوخدا کی طرف سے جوہدایات ملی تھیں بندوں کی ہوس پرستیوں نے ان کی حقیقت گم کردی تھی،ابدی مذھب کا پیغمبراپنی زندگی کے بعدہدایات ربانی کا مجموعہ (جوچیز تھی)اپنے ہاتھ سے امت کے سپرد کرتا ہے اورتاکید کرتا ہے:&lt;br /&gt;’انی قد ترکت فیکم مالن تضلوا بعدہ ابدا ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ‘( یعنی میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑا تو تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے(یعنی) کتاب اللہ!)(صحاح)۔“&lt;br /&gt;(سیرةالنبی ج٢ص٦٩)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٣)مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی&lt;br /&gt;” اپنی تالیف ’نبیءرحمت ‘ میں ’ حجةالوداع میں رسول اللہ کا خطبہ‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ” یہاں پر ہم اس خطبہ کا پورا متن دے رہے ہیں ،جو آپ نے عرفہ کے روز دیا تھا“&lt;br /&gt;آگے’عرفہ‘کا عنوان قائم کرکے یہی ٹکڑا نقل کرتے ہیں جس میں صرف قرآن ہی کا ذکر ہے کہ&lt;br /&gt;” وقدترکت فیکم مالن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ۔ “ اور خود ہی یہ ترجمہ بھی کرتے ہیں کہ ” میں تم میں ایک چیز چھوڑ جاتا ہوں اگرتم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیاتوکبھی گمراہ نہ ہوگے وہ چیز کیا ہے؟ کتاب اللہ۔“( نبیءرحمت ص ٣٢٥)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٤)مولانا عبدالعزیز ہزاروی&lt;br /&gt;مولانا اپنی تالیف ’ قصص الانبیائ‘میں ’خطبہ حجةالوداع‘ کے عنوان کے تحت آنحضرت کی آخری وصیت صحاح کے حوالہ سے یہ نقل کرتے ہیں کہ ” میں تم میں ایک چیز(قرآن) چھوڑے جارہا ہوں جبتک تم اس کو پکڑکر رکھو گے ہرگزگمراہ نہیںہوگے ۔“&lt;br /&gt;( ص٦٢)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٥) امام بخاری&lt;br /&gt;امام بخاری نے صحیح بخاری میں ایک مستقل باب اسپر باندھا ہے کہ آپ سوائے قرآن کے دوسری کوئی کتاب یا صحیفہ نہیں چھوڑ کے گئے،باب کا نام ہے:&lt;br /&gt;” باب من قال لم یترک النبی الا ما بین الدفتین ۔“( باب، جس نے یہ کہا کہ نبی نے کچھ نہیں چھوڑا مگر جو دفتَین( دو لوحوں ) کے درمیان ہے)(صحیح بخاری ج٢ص١٥٧)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٦) حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت محمد بن حنفیہ&lt;br /&gt;” عن عبدالعزیز بن رُفیع قال دخلت اناوشداد بن معقل علی ابن عباس فقال لہ شدادبن معقل’اترک النبی من شیءقال ماترک الامابین الدفتَین وقال ودخلنا علی محمد بن حنفیہ فسالناہ فقال ماترک الامابین الدفتَین۔“&lt;br /&gt;(عبدالعزیز بن رفیع سے مروی ہے کہ کہا میں اور شداد بن معقل حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس گئے،شداد نے ان سے پوچھا کہ نبی نے کچھ چھوڑا ہے؟ توحضرت ابن عباس نے کہا کہ(آپ نے)کچھ نہیں چھوڑا مگر جودولوحوں کے درمیان ہے(یعنی صرف قرآن)‘ پھرہم محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور اس سے بھی یہی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ(آپ نے)کچھ نہیں چھوڑا مگر جودولوحوں کے درمیان ہے(یعنی صرف قرآن چھوڑا)‘۔)(صحیح بخاری،ج٢ص١٥٧)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;(٧)حضرت علی&lt;br /&gt;حضرت علی کے بارے میں مشہورہوگیاتھاکہ آپ کے پاس قرآن کے سوا اوربھی کچھ ہے تو آپ نے اس شبہ کو مٹانے کے لیے کئی بار برسرمنبرفرمایا:”یقول واللہ ما عندناکتاب نقرءہ علیکم الاکتاب اللہ تعالٰی“&lt;br /&gt;(یعنی آپ فرماتے کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے جوہم تم پر پڑھتے ہیں مگر کتاب اللہ تعالٰی)&lt;br /&gt;(مسنداحمدج١ص٧٨،بحوالہ تدوین حدیث ص٧١٤۔اسی مضمون کی حدیث بخاری میں بھی آئی ہے۔)&lt;br /&gt;” تمسک واعتصام بالکتاب “&lt;br /&gt;( یعنی صرف کتاب اللہ کوپکڑنا اور تھامنا)&lt;br /&gt;خود قرآن میں کئی جگہ ارشادفرمایا گیا کہ کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامو اور اسی کو کافی سمجھومثلاًفرمایا گیا ’ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاًولاتفرقوا۔“( اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ کرو)اور فرمایا کہ ’اولم یکفھم&lt;br /&gt;پھر خود رسول اللہ نے حجةالوداع کے خطبہ میں فرمایا کہ’ کتاب اللہ کو تھام لو کبھی گمراہ نہیں ہوگے‘ جیسا کہ پہلے ہم لکھ آئے ہیں ۔اور آپ نے یہ قرآن کی مذکورہ بالا آیات ہی تشریح وتفسیر وتبیین میں ارشاد فرمایا اور صحابہءکرام سے،جو مزاج شناس قرآن ورسول تھے اوردین کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے،ایسے ارشادات منقول ومروی ہیں کہ جن میں انہوں نے ’ہمارے لئے صرف قرآن کافی ہے‘کانعرہ لگایا ۔&lt;br /&gt;’ہمارے لئے صرف قرآن کافی ہے‘&lt;br /&gt;٭حضرت ابوبکرصدیق نے فرمایاکہ” فمن سا&lt;br /&gt;¿لکم فقولوا بینناوبیناکم کتاب اللہ فاستحلواحلالہ وحرمواحرامہ۔“(یعنی جو کوئی بھی تم سے(کوئی دینی مسئلہ وغیرہ) پوچھے تو اسے کہو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ہے ،اس کے حلال کو حلال سمجھو اوراس کے حرام کوحرام جانو۔)(تذکرةا لحفاظ،علامہ حافظ محدث ذہبی،ج١ص٣، اورفہم قرآن،مولاناسعیداحمداکبرآبادی&lt;br /&gt;فاضل دیوبندی،ص٤١١)&lt;br /&gt;٭حضرت عمر نے کہا کہ’وعندکم القرآن حسبنا کتاب اللہ۔‘(یعنی تمہارے پاس قرآن ہے اور ہمیں تو صرف کافی ہے۔)(صحیح بخاری،ج٢ص٨٣٦)&lt;br /&gt;٭ حضرت قرظہ بن کعب نے کہا کہ حضرت عمر نے ہمیں عراق روانہ کیا اور ہمارے ساتھ چلے اور پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں کیوں تمہارے ساتھ کیوں مشایعت کررہاہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہماری تکریم کے لئے آپنے کہا کہ ہاں مگراس کے ساتھ ایک اور چیزبھی ہے وہ یہ کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جارہے ہو جہاں سے قرآن(پڑھنے)کی ایسی آوازیں آتیں ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ،تو تم کہیں ان لوگوں کو(قرآن سے)نہ روک دواحادیث کے ذریعے اور انہیں(صرف احادیث ہی میں)مشغول کردو،(لھذا)قرآن کو الگ رہنے دینا۔“&lt;br /&gt;(تذکرة الحفاظ ،علامہ ذہبی ج١ص٧)&lt;br /&gt;٭حضرت عاشہنے ،حضرت عمرکی حدیث کہ لواحقین کے رونے سے مردہ پر عذاب ہوتا ہے ،کہاکہ’ اللہ عمرپر رحم کرے،رسول اللہ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اللہ مومن(مردہ)کوعذاب دیتا ہے اس کے گھر والوں کے رونے سے بلکہ رسول اللہ نے تو فرمایا تھا کہ اللہ کافر پر عذاب بڑھاتا ہے اس کے گر والوں کے رونے سے‘ اور کہا کہ ”حسبکم ولاتزروازرةوزراخرٰی “ (یعنی تمہیں [اس حدیث کے مقابلے پر یہ آیت قرآنی]کافی ہے ،کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔)(عن ابن عباس ،صحیح بخاری ج١ص٢٧١،صحیح مسلم،ج١ص٣٠٣،مشکوةالمصابیح ص٢٥١)&lt;br /&gt;٭ابوالعالیہ نے کہا کہ ایک شخص نے حضرت اُبی ابن کعبسے کہا کہ مجھے کوئی وصیت کیجے آپنے فرمایا ” اتخذ کتاب اللہ [اماما]وارض بہ حکماوقاضیا۔“ یعنی’کتاب اللہ کو امام بنالو(سامنے رکھو) اوراس کے حَکم اور قاضی ہونے پر راضی رہو۔( فیصلے وغیرہ کے لئے اسے ہی کافی ووافی سمجھو)( تذکرةالحفاظ،حافظ ذہبی،ج١ص٧١)&lt;br /&gt;٭امام ومحدث حضرت شعبہ بن الحجاج تابعی جنہیں فن اسماءالرجال کا بانی کہا جاتا ہے فرماتے ہیں کہ ” کلما تقدمتم فی الحدیث تا&lt;br /&gt;¿خرتم فی القرآن ۔“ یعنی ( اے حدیث کے بیان کرنے والوں) تم لوگ جتنا حدیث میں آگے بڑھتے جاو&lt;br /&gt;¿ گے اُتنا ہی قرآن سے ھٹتے جاو&lt;br /&gt;¿ گے۔(ایضاًج١ص٦٩١)&lt;br /&gt;ابو قطن نے کہا کہ امام شعبہ نے مجھ سے کہا کہ” ماشیءاخوف عندی ان یدخلنی النار من الحدیث و قال عنہ وددتُ انی وقاد حمام ولم اعرف الحدیث ۔“( حدیث کی وجہ سے میں دوزخ میں ڈالا جاو&lt;br /&gt;¿ں،مجھے سب سے زیادہ خوف اسی بات کا ہے اور کہا کہ میں اس بات کوانتہائی چاہتا ہوں کہ میں ایک حمام میں لکڑیاں جلانے والا ہوتا اورحدیث نہ جانتا۔)(ایضاً ج١ص٧٩١)&lt;br /&gt;٭ حضرت فضیل بن عیاض سے ایک مرتبہ چند طلبا ئ، حدیث کا درس لینے آئے تو آپ نے انہیں اس طرح ڈانٹ پلائی کہ” انکم قد ضیعتم کتاب اللہ ولوطلبتم کتاب اللہ لوجدتم فیہ شفاءثم قرئ’ یایھاالناس قدجا&lt;br /&gt;¿تکم موعظةمن ربکم‘ ( تم لوگوں نے کتاب اللہ کوضائع کردیاہے اوراگرتم کتاب اللہ کے صحیح طالب ہوتے تو تم اس میں شفاءپالیتے پھر آپ نے آیت پڑھی کہ’ اے لوگوں تمہاری پاس خدا کی طرف سے موعظت و نصیحت آچکی ہے۔)&lt;br /&gt;( جامع بیان العلم ،علامہ حافظ محدث ابن عبدالبر،ص٢٣٢)&lt;br /&gt;٭ شاہ عبدالقادرمحدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ” بعضے محقق نے لکھا ہے کہ قرآن کے اول میں حرف بااورآخرمیں اس کے حرف سین آیا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید دونوں جہان کے واسطے’بس‘ہے۔“(بحوالہ جواھرالقرآن ج٣ص٢٠٤)&lt;br /&gt;٭مولانامحمدابوبکرغازی پوری کہتے ہیں کہ” مگریہ( غیرمقلدین از مول&lt;br /&gt;¿ف)بے شرمی اور بے حیائی کے مارے احناف کو چڑانے کے لئے اپنی کتابوں میں یہ شعرلکھتے ہیں&lt;br /&gt;یہ وہ امت ہے کہ فرمان نبوی سن کے یہ کہے&lt;br /&gt;میں توحنفی ہوں نہ مانوں گایہ فرمان حدیث&lt;br /&gt;اور اپنے کو عشق نبوی کا متوالا ثابت کرنے کے لئے یہ قوالی ضرور گائیں گے ع&lt;br /&gt;مابلبلان نالان دلدار مامحمد&lt;br /&gt;اورنہایت بے حیائی کے ساتھ اور بلا سوچے سمجھے یہ دعوٰی کریں گے&lt;br /&gt;مصطفٰی سے ہم کوورثے میں ملی ہیں دوکتاب&lt;br /&gt;ایک کلام اللہ دوئم آپ کا فصل الخطاب&lt;br /&gt;ناظرین یادرکھیں کہ امت مسلمہ کو توجوخداورسول پرایمان رکھتی ہے صرف ایک کتاب ملی ہے جسکا نام صرف قرآن ہے مگر ان غیرمقلدین کوان کے آبائی ورثے سے دو کتاب ملی ہے ایک کانام کلام اللہ ہے اور دوسری کانام ’فصل الخطاب‘ ہے ،یہ حماقت،جہالت اور گمراہی ہے۔“&lt;br /&gt;( مسائل غیرمقلدین،کتاب وسنت اورمذھب جمہورکے آئینے میں ص ٠٢١،٩١١) &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;what i type in this area&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/20079905-113538606231097005?l=al-kitab.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://al-kitab.blogspot.com/feeds/113538606231097005/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=20079905&amp;postID=113538606231097005' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default/113538606231097005'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default/113538606231097005'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://al-kitab.blogspot.com/2005/12/blog-post_24.html' title='احادیث کے لئے قرآن ہی معیار ہے'/><author><name>Javed</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12054184344313796240</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-20079905.post-113521503466135462</id><published>2005-12-22T06:30:00.000+05:00</published><updated>2005-12-22T06:58:53.650+05:00</updated><title type='text'>Eid Mubarak</title><content type='html'>&lt;div align="center"&gt;&lt;strong&gt;&lt;span style="font-size:180%;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/strong&gt;&lt;a href="http://photos1.blogger.com/blogger/4278/2000/1600/ramdankareem[1].gif"&gt;&lt;img style="DISPLAY: block; MARGIN: 0px auto 10px; CURSOR: hand; TEXT-ALIGN: center" alt="" src="http://photos1.blogger.com/blogger/4278/2000/320/ramdankareem%5B1%5D.jpg" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;  &lt;span style="color:#6600cc;"&gt;&lt;span style="font-size:180%;"&gt;&lt;strong&gt;عید مبارک&lt;/strong&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;what i type in this area&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/20079905-113521503466135462?l=al-kitab.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://al-kitab.blogspot.com/feeds/113521503466135462/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=20079905&amp;postID=113521503466135462' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default/113521503466135462'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default/113521503466135462'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://al-kitab.blogspot.com/2005/12/eid-mubarak.html' title='Eid Mubarak'/><author><name>Javed</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12054184344313796240</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-20079905.post-113520991932925898</id><published>2005-12-22T05:04:00.000+05:00</published><updated>2005-12-22T07:13:03.590+05:00</updated><title type='text'>محبت رسول کا صحیح طریقہ اظہار</title><content type='html'>&lt;div align="center"&gt;&lt;span style="font-family:arial;font-size:130%;color:#000099;"&gt;جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت الہی، عبادت الہی اور اطاعت الہی سے آگاہ اور ہدایت، رحمت اور سیرت سے فیض یاب ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت خود بخود ہو جاتی ہے حتی کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا غیر جانب دار ہو کر مطالعہ کرے اور انسانوں پر آپ کے مثبت اثرات کا مشاہدہ کرے تو وہ پکار اٹھتا ہے کہ :&lt;br /&gt;رخ مصطفی کا جمال اللہ اللہ&lt;br /&gt;زباں کا حسن مقال اللہ اللہ&lt;br /&gt;طوفان زندگی کا سہارا تمہی تو ہو&lt;br /&gt;دریائے معرفت کا کنارہ تمہی تو ہو&lt;br /&gt;عرش یلساتی (پنڈت بال کمند)&lt;br /&gt;اب مسئلہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کس طرح کیا جائے؟ آپ نے فرمایا:&lt;br /&gt;"جس نے میری سنت کو دوست رکھا، اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا وہ میرے ساتھ بہشت میں ہوگا۔" (مشکوة)&lt;br /&gt;اب دیکھیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ:&lt;br /&gt;"قرآن مجید کے معنی واضح کرو (یعنی اس کے مفہوم و مدعا کو سمجھو) اور بالخصوص اس کے غرائب پر توجہ کرو۔ غرائب، فرائض اور حدود ہیں۔" (مشکوہ، کتاب فضائل القرآن)&lt;br /&gt;"اللہ تعالی کسی بدعتی کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جب تک وہ بدعت چھوڑ نہ دے۔" (ابن ماجہ مصری 1/6)&lt;br /&gt;یعنی قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا اور بدعت سے بچنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور سنت کو دوست رکھنے والا ہی محب رسول کہلانے کا مستحق ہے جو شخص قرآن مجید کو سمجھ کر نہیں پڑھتا اور نہ بدعات سے بچتا ہے اور محض نعتوں کے مقابلے کی کسی محفل میں شریک ہو کر "عاشق رسول" ہونے کا دعوی کرتا ہے تو وہ ایک سنگین غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ قرآن و سنت کا بغور مطالعہ اور عمل ہی حب رسول کا صحیح طریقہ اظہار ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;what i type in this area&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/20079905-113520991932925898?l=al-kitab.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://al-kitab.blogspot.com/feeds/113520991932925898/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=20079905&amp;postID=113520991932925898' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default/113520991932925898'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/20079905/posts/default/113520991932925898'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://al-kitab.blogspot.com/2005/12/blog-post.html' title='محبت رسول کا صحیح طریقہ اظہار'/><author><name>Javed</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12054184344313796240</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry></feed>
